menu icon

دس بہترین ادبی تخلیقات جنہیں حالت اسیری میں لکھا گیا

ادب کی تخلیق کے لیے جیل یا قیدخانہ کوئی آئیڈیل جگہ نہیں ہے۔ البتہ حیران کن طور پر ادب کی دنیا کے کئی شاہکار ایسی ہی جگہوں پر تخلیق ہوئے
web desk dharti ویب ڈیسک


ادب کی تخلیق کے لیے جیل یا قیدخانہ کوئی آئیڈیل جگہ نہیں ہے۔ البتہ حیران کن طور پر ادب کی دنیا کے کئی شاہکار ایسی ہی جگہوں پر تخلیق ہوئے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ قید کی حالت میں مصنف کے پاس بے تحاشہ وقت دستیاب ہوتا ہے۔ اس لیے چار دیواری میں قید ہو کر بھی لکھنا وقت کا بہترین مصرف ثابت ہوتا ہے۔ ایسے میں تخلیقی خیال بھی انسان کے ذہن کو جلا بخشتے ہیں۔

اس مضمون میں ہم آپ کو ایسے ہی دس ادبی فن پاروں کے بارے میں بتائیں گے جنہیں مصنفین نے مقید حالت میں تحریر کیا اور ادب کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔

10. Our Lady of the Flowers by Jean Genet

جین جینیٹ ایک فرانسیسی مصنف تھا جسے غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے اکثر جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید کر دیا جاتا تھا۔ ایک بار اسے چوری کرنے پر قید کی سزا دی گئی تو اس نے اپنے عرصہ قید میں معروف ناول Our Lady of the Flowers کو تصنیف کیا۔ 1943 میں شائع ہونے والے اس ناول میں پیرس کی زیرزمیں دنیا کی ملکہ کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ اس ناول کی وجہ شہرت مصنف کا آپ بیتی جیسا انداز اور شاعرانہ طرز تحریر ہے جسے بہت پسند کیا گیا۔ اس ناول کا پیش لفظ معروف مصنف جین پاؤل سارترے نے تحریر کیا۔

9. De Profundis by Oscar Wilde

آئرش مصنف کو لارڈ ڈگلس کے ساتھ تعلقات منظر عام پر آنے کے باعث دو سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔ جیل میں قید و بند کی صعوبتیں سہتے دوران آسکر وائلڈ نے وقت گزاری کے لیے اپنے ڈگلس کے لیے خط لکھنا شروع کر دیا۔ یہ خط کبھی بھی اپنی منزل تک تو نا پہنچ سکا البتہ مصنف کی وفات کے بعد شائع ضرور ہو گیا۔ یہ طویل خط آسکر وائلڈ کی دیگر تمام تحاریر سے منفرد اور انتہائی سنجیدہ طرز تحریر کا حامل ہے جس میں مصنف نے اپنی شخصیت کے کئی اسرارورموز سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی۔

8. Tractatus Logico-Philosophicus by Ludwig Wittgenstein

آسٹرین فلاسفر لڈوگ کی جانب سے سائنس و حقیقی دنیا کے بارے میں لکھے گئے یہ فکر انگیز خیالات، اس قید کے دوران رقم ہوئے جب وہ پہلی جنگ عظیم کے دوران اتحادی افواج کی قید میں تھا۔ اس کے مرتب کردہ کام کو بیسویں صدی کی سب سے فکر انگیز فلسفیانہ تحاریر میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ وٹگنسٹائن آسٹریو۔ہنگرین فوج میں سپاہی کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ اس دوران اسے 9 ماہ تک کا عرصہ اتحادیوں کی قید میں گزارنا پڑا جہاں اس نے یہ ادبی فن پارہ تخلیق کیا۔

7. Letters from Birmingham Jail by Martin Luther King Jr.

“ہر طرف ناانصافی، ہر طرف انصاف کے لیے خطرہ ہے”
یہ گہرا اور فلسفیانہ جملی مارٹن لوتھر کنگ کی تخلیق ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنا بڑا مصنف تھا۔ یہ الفاظ مارٹن کے مضمون سے لیے گئے ہیں جسے اس نے 1963 کی نو روزہ قید کے دوران لکھا تھا۔ اسے الباما کے نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلانے پر قید کی سزا دی گئی تھی۔ خطوط پر مشتمل یہ مضمون انسانی حقوق کی تحاریک کے لیے آج بھی ایک علامت اور ستون خیال کیے جاتے ہیں۔

6. Conversations with Myself by Nelson Mandela

جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت کے خلاف جدوجہد کرنے والے سیاہ فام افریقی نیلسن منڈیلا کی تحریک کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ جس میں سے اکثر حصہ اس نے قید و بند کی صعوبتوں میں گزارا۔ اسی قید کے دوران منڈیلا نے اپنی خودنوشت 6. Conversations with Myself کے نام سے تحریر کی۔ جو کہ اس کی ڈائری اور خطوط کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کتاب کو 1994 میں شائع کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہی تحاریر آگے چل کر منڈیلا کی مشہور عالم تصنیف Long Walk Freedom کی بنیاد بنیں۔

5. History of the World by Sir Walter Raleigh

سر والٹر ریلف بہ یک وقت ایک مصنف،تاجر اور سیاح تھے۔ وہ برطانوی ملکہ الزبتھ اول کے خاص ترین درباریوں میں سے بھی تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے اپنی وفاداری بدل لی۔ انہیں غداری کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی۔ لندن ٹاور میں 13 سالہ قید کے دوران انہوں نے تاریخ عالم نامی کتاب لکھی۔ یہ کتاب تاحال نامکمل اور متنازعہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بہت ہی اہم تحقیقی کام ہے۔ بعد میں والٹر رالف کو ایک مشن کی تکمیل کے لیے رہا کیا گیا جو کہ ناکام رہا۔

4. The Travels of Marco Polo by Rustichello of Pisa

وینیشین تاجر مارکوپولو مشرق بعید کی 24 سالہ سیر کے بعد واپس آیا تو اسے حریف ملک سے جنگ کے دوران قید کر لیا گیا۔ عرصہ اسیری میں اس نے اپنے قیدی ساتھیوں کو سفر کی کہانیاں سنائیں۔ جیل میں اس کے ایک ساتھی پیسا نے رہا ہو کر مارکوپولو کی تمام کہانیوں کو کتابی شکل دے کر شائع کروایا۔ یہ کتاب بہت جلد ہی یورپ بھر میں مشہور ہو گئی اور اس کی بناء پر کئی یورپی ممالک نے مشرق کی جانب مہمات اور طائفے بھجوائے۔

3. Le Morte d’Arthur, by Sir Thomas Malory

شاہ آرتھر اور اس کی گول میز کے قصے انگریزی ادب میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔اس سلسلے میں سب سے مشہور اور نمایاں کام سر تھامس میلوری کا ہے۔ تھامس میلوری کو کئی مقدمات کا سامنا تھا۔ اس سلسلے میں وہ لندن میں قید بھی رہے۔ اس عرصہ میں انہوں نے کنگ آرتھر کے لیجنڈز پر کتاب لکھی جسے کافی شہرت ملی۔

2. Pilgrim’s Progress by John Bunyan

ادب کی دنیا میں تخلیقی کاموں میں سے ایک یہ کتاب مشہور علحیدگی پسند تبلیغی جان بنیان کی جانب سے تحریر کی گئی۔ یہ کتاب انہوں نے اس عرصہ اسیری میں لکھی جب شہنشاہیت کی جانب سے انہیں نفرت انگیز تقاریر کرنے پر قید کر دیا گیا تھا۔ یہ اسیری اور کتاب کی تصنیف بارہ سال پر محیط ہے جو انہوں نے بیڈفورڈ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے۔ جان بنیان کا یہ کام 1678 میں شائع ہوا۔

1. Consolations of Philosophy by Boethius

بوئتھئیس ایک اطالوی فلاسفر تھے جو کہ چھٹی صدی عیسوی میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے وقت کے معروف شخصیت تھے لیکن ریاست کی مخالفت مول لینے کی وجہ سے زیر عتاب آ گئے۔ انہوں غداری کے الزام میں موت کی سزا سنا کر جیل میں بھیج دیا گیا۔ اپنی زندگی کے آخری پلوں کا شمار کرتے انہوں نے 1. Consolations of Philosophy کو تصنیف کیا۔ یہ کتاب متفقہ طور پر حالت اسیری میں لکھی جانے والی دنیا کی بہترین کتاب اور ادبی تخلیق مانی جاتی ہے۔ اس میں مصنف اور ایک فلاسفر خاتون کے درمیان مکالمے کو تحریر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب قرون وسطی کی مشہور ترین کتابوں میں سے ایک تھی اور بہت سے نئے مصنفین کے لیے تحریک کا باعث بنی۔

متعلقہ خبریں









مزید

کھیل

پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو نے ٹیم کو چھوڑ دیا؟











تجارت

سستا تیل کہاں سے ملے گا ؟عوام کے لیے بڑی خوشخبری آگئی











دلچسپ

” میرا دل یہ پُکارے آجا ” مسٹربین بھی اسی بُخار میں مبتلا












وڈیوز

وڈیوز

افواجِ پاکستان کی قربانیوں پر قوم کے جذبات

وڈیوز

غربت اور بیماری میں بچوں کی پرورش کرتی باہمت خاتون

وڈیوز

ابھی نندن پرکلی کی مزاحیہ نظم


لاہور میں باپ کی بیٹی سے نکاح کی خواہش

فارن فنڈنگ کیس : خان صاحب انصاف کے لیے عوام میں نکل آئے

جشن آزادی پر محرم الحرام کے احترام میں کاروبار میں مندی کا رجحان

چیل گوشت کا صدقہ دینا حلال ہے یا حرام ؟

بجلی کے بل دیکھ کر عوام کی چیخیں نکل گئیں

محبت کی شادی کا خوفناک انجام


مزید دیکھیں