menu icon

وزیراعلیٰ پنجاب کی چند گھنٹوں میں دو دفعہ زمان پارک آمد

صحتیابی کے بعد لانگ مارچ کو براہ راست اسلام آباد میں دھرنے کی شکل میں شروع کیا جائے تو بہتر ہوگا پرویز الٰہی
web desk dharti ویب ڈیسک


ڈیلی دھرتی (ویب ڈیسک) تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہٰی آج دو بار اپنے بیٹے مونس الہٰی کے ہمراہ چیئرمین عمران خان سے ملاقات کیلئے ان کی رہائش گاہ زمان پارک گئے جہاں پرویز الہٰی کے مشورے سے عمران خان نے لانگ مارچ کو جمعرات تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی ٹھوس وجہ بھی بتا دی ملاقات میں قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر پر طویل مشاورت کی گئی لانگ مارچ کی سکیورٹی پر بھی بات چیت ہوئی ، ذرائع کےمطابق عمران خان نے واضح کر دیا کہ جس کو درخواست میں نامزد کیا ہے انہی افراد کے خلاف ایف آئی آر کٹے گی۔وہ اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ تفتیش میں اگر کوئی بے گناہ ثابت ہوتا ہے تو ٹھیک ورنہ بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

۔

ذرائع کے مطابق کپتان نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے پرویزالہٰی سے کہا ہے حملہ ہم پر ہوا ہے، ملزمان کو نامزد کرنا ہمارا قانونی حق ہے۔

مونس الہٰی نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے علاوہ کسی تیسری شخصیت کو نامزد کرنے کی بجائے نامعلوم ملزمان لکھ لیتے ہیں، تحقیقات میں کچھ شواہد ملے تو انہیں بعد ازاں نامزد کردیا جائے گا۔

مگر عمران خان نے وزیراعلیٰ پر زور دیا کہ وہ اتحادی ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

پرویزالہٰی کچھ وقت مانگ کر پہلی ملاقات سے روانہ ہوگئے۔

عمران خان نے قانونی ماہرین سے الگ ملاقات میں بھی مشاورت کی۔

ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین کی رائے تھی کہ ایسی شخصیت کا نام قانونی طریقے سے شامل کیا تو جاسکتا ہے، مگر اس کا پراسس طویل ہے، اگر شواہد نہ ملے تو تمام کیس خراب ہو جائے گا۔

ذرائع کے مطابق دوسری ملاقات میں پرویزالہٰی اپنے موقف پر قائم رہے، انہوں نے واضح کردیا کہ اگر تحریک انصاف سپریم کورٹ سے تین نام شامل کرانے کا حکم لے لے تو وہ ایف آئی آر درج کرلیں گے، دوسری صورت میں یہ ناممکن ہے۔

دوسری ملاقات میں پرویزالہٰی نے چیئرمین کو مشورہ دیا کہ لانگ مارچ کیلئے ابھی بھی سخت سیکیورٹی خدشات موجود ہیں، اس لئے کچھ روز کیلئے لانگ مارچ ملتوی کردیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے یہ بھی مشورہ دیا کہ جب تک تحقیقات میں پہلے واقعے میں ملوث حملہ آور گروپ یا ماسٹر مائنڈ کی درست نشاندہی نہیں ہوجاتی، اس وقت تک مزید حملوں کا خدشہ رہے گا۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر چند روز تک لانگ مارچ ملتوی کردیا جائے تو وہ سیکیورٹی کو از سر نو ترتیب دے سکتے ہیں۔ ایسے پولیس افسروں کو لانگ مارچ سیکورٹی کی ذمہ داری سونپی جائے گی، جن کا کردار شک و شبہے سے بالا تر ہو تاکہ پنجاب حکومت سیکورٹی کی مکمل ذمہ داری نبھا سکے۔

ذرائع کے مطابق پرویزالہٰی نے یہ بھی مشورہ دیا کہ آپ کی صحتیابی کے بعد لانگ مارچ کو براہ راست اسلام آباد میں دھرنے کی شکل میں شروع کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

دوسری ملاقات کے اختتام پر عمران خان نے شاہ محمود قریشی سے کہا ہے کہ میڈیا کو آگاہ کردیں کہ لانگ مارچ جمعرات کو ہوگا

متعلقہ خبریں









مزید

کھیل

پنڈی ٹیسٹ کا دوسرا روز،انگلش ٹیم پہلی اننگز میں کتنے رنز بنائے.؟











تجارت

گوگل پلے اسٹور کی سروسز پاکستان میں بند ہونگی یا نہیں ؟ فیصلہ ہوگیا











دلچسپ

” میرا دل یہ پُکارے آجا ” مسٹربین بھی اسی بُخار میں مبتلا












وڈیوز

وڈیوز

افواجِ پاکستان کی قربانیوں پر قوم کے جذبات

وڈیوز

غربت اور بیماری میں بچوں کی پرورش کرتی باہمت خاتون

وڈیوز

ابھی نندن پرکلی کی مزاحیہ نظم


لاہور میں باپ کی بیٹی سے نکاح کی خواہش

فارن فنڈنگ کیس : خان صاحب انصاف کے لیے عوام میں نکل آئے

جشن آزادی پر محرم الحرام کے احترام میں کاروبار میں مندی کا رجحان

چیل گوشت کا صدقہ دینا حلال ہے یا حرام ؟

بجلی کے بل دیکھ کر عوام کی چیخیں نکل گئیں

محبت کی شادی کا خوفناک انجام


مزید دیکھیں