menu icon

فلم جوائے لینڈ اسلامی اخلاقیات پر ڈورن حملہ اورثقافتی دہشت گردی ہے

فلم کو ملنے والے ایوارڈ کو باعث فخر نہیں بلکہ باعث شرم قرار دیا سینیٹر مشتاق
web desk dharti ویب ڈیسک


ڈیلی دھرتی (ویب ڈیسک) تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ فلم جوائے لینڈ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت دینا وفاقی حکومت کی جانب سے اسلامی ثقافت پر ڈورن حملہ ہے، امریکی فنڈڈ فلم کو فرانس کے کانز فلم میلے سے باقاعدہ ایوارڈ دلوانا ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ایل جی بی ٹی کے موضوع پربنائی جانے والی فلم کونمائش کی اجازت دینے پر مذہی ، سیاسی رہنمائوں ،سوشل میڈیا میں سرگرم افراد اور عوام نے سخت غم وغصہ کا اظہار کیا ہے،فلم کو اسلامی اخلاقیات پر ڈورن حملہ اورثقافتی دہشت گردی اور فلم کو ملنے والے ایوارڈ کو باعث فخر نہیں بلکہ باعث شرم قرار دیا۔اپنے ایک بیان میںسینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے ہم جنس پرستی کے موضوع پر بننے والی جوائے لینڈ کو ملک بھر میں نمائش کی اجازت دے دی صائم صادق کی فلم جوائے لینڈ کو رواں برس مئی میں فرانس میں ہونے والے کانز فلم فیسٹیول میں پیش کیا گیا تھا اور اسے کانز کا اعلیٰ ترین کوئیر پام ایوارڈ دیا گیا تھا جو کہ خصوصی طور پر ہم جنس پرست یا پھر مخنث افراد کی کہانیوں پر مبنی فلموں کو دیا جاتا ہے یہ فلم سرمد کھوسٹ گروپ کی بنائے گئی جس کی 95فیصد فنڈنگ امریکی حکومت نے کی ہے جب کہ ا س کو پروڈیوسرایک امریکی ہے یہی گروپ اس سے قبل اسلامی تہذیب سے متصادم فلم چڑیل بھی بنا چکا ہے،جوائے لینڈ کی پاکستان میں نمائش کی اطلاع پر پورے ملک میںغم وغصے کی لہر ڈور گئی، جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد خان نے فلم کی نمائش کے خلاف بڑی احتجاجی مہم کا آغا زکیاجس کے نتیجے میں حکومت نے 16نومبر کو اس فلم پر پابندی کا اعلان کیا تھا تاہم مغربی تہذیب سے متاثر ایک مخصوص طبقے کی جانب سے دبائو کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے فلم کی نمائش کی اجازت دی گئی ،سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ ہم جنس پرستی پر بنائی گئی فلم جوائے لینڈ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت دینا وفاقی حکومت کی جانب سے اسلامی ثقافت پر ڈورن حملہ ہے، عوام کو ان لوگوں کا چہرہ پہچان لینا چاہیے کہ جو ہماری تہذیب ،شرم وحیااور خواتین کے تقدس پراس دہشت گردانہ حملے میں ملوث ہیں۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ امریکی فنڈڈ فلم کو فرانس کے کانز فلم میلے سے باقاعدہ ایوارڈ دلوانا ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس پر مغربی تہذیب کے دلدادہ اور اسلامی ثقافت سے ناآشنا کچھ افراد خوشی کااظہار کر رہے ہیں۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ پاکستان کو ایل بی جی ٹی کے موضوع پربنائی فلم پر ایوارڈ ملنے پر دنیا ہنس رہی ہے پاکستان کو یہ ایوارڈ سائنس وٹیکنالوجی پر نہیں علم ادب پر نہیں بلکہ ہم جنس پرستی کے موضوع پربنائی گئی فلم پر ملاہے جو پاکستان کے لئے فخر نہیں شرم کا مقام ہے، جماعت اسلامی کے سینٹر مشتاق احمد خان نے جوائے لینڈ فلم کے بارے میں وفاقی حکومت کے شرمناک رویے پرسخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ لاپتا افراد ، بدترین مہنگائی ،تعلیم وصحت جیسے اہم مسائل کو پس پشت ڈالنے والی حکومت نے ہم جنس پرستی پر بننے والی فلم کی نمائش کے مسئلے پر 8وزیروں پر مشتمل کمیٹی بنائی،سنسر بورڈ پر دبائوڈالااورایک دن کے اندر اندر اس پر فیصلہ بھی کرلیاگیا۔مشتاق احمد خان نے علمائے کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ فلم کی نمائش کے خلاف عوام کو آگاہی دیں، ممتازسوشل میڈیا ایکٹیوٹس جویرہ خان نے بھی فلم کو اسلامی تہذیب وثقافت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس فلم کو ایک باقاعدہ سازش کے تحت پاکستانی فلم کے طور پر آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا تاہم آسکر ایوارڈ میں شمولیت کے لئے لازمی ہے کہ فلم 30نومبر سے پہلے پہلے کسی پاکستانی سینماہال میں کم ازکم سات روز تک چلے۔انہوںنے کہا کہ شہباز شریف کو شرم آنی چاہیے کہ وہ ایک اسلامی تہذیب کے خلاف بنائی جانے والی ایک فلم کی پاکستان میں نمائش کی اجازت دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں









مزید

کھیل

پنڈی ٹیسٹ کا دوسرا روز،انگلش ٹیم پہلی اننگز میں کتنے رنز بنائے.؟











تجارت

گوگل پلے اسٹور کی سروسز پاکستان میں بند ہونگی یا نہیں ؟ فیصلہ ہوگیا











دلچسپ

” میرا دل یہ پُکارے آجا ” مسٹربین بھی اسی بُخار میں مبتلا












وڈیوز

وڈیوز

افواجِ پاکستان کی قربانیوں پر قوم کے جذبات

وڈیوز

غربت اور بیماری میں بچوں کی پرورش کرتی باہمت خاتون

وڈیوز

ابھی نندن پرکلی کی مزاحیہ نظم


لاہور میں باپ کی بیٹی سے نکاح کی خواہش

فارن فنڈنگ کیس : خان صاحب انصاف کے لیے عوام میں نکل آئے

جشن آزادی پر محرم الحرام کے احترام میں کاروبار میں مندی کا رجحان

چیل گوشت کا صدقہ دینا حلال ہے یا حرام ؟

بجلی کے بل دیکھ کر عوام کی چیخیں نکل گئیں

محبت کی شادی کا خوفناک انجام


مزید دیکھیں